ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 53

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ اَمَرۡتَہُمۡ لَیَخۡرُجُنَّ ؕ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ۚ طَاعَۃٌ مَّعۡرُوۡفَۃٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۳﴾
اور انھوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں، اپنی پختہ قسمیں کہ اگر واقعی تو انھیں حکم دے تو وہ ہر صورت ضرور نکلیں گے، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ، جانی پہچانی ہوئی اطاعت (ہی کافی ہے)۔ بے شک اللہ اس سے خوب واقف ہے جو تم کرتے ہو۔ En
اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
En
بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ (منافقین) اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر (رسول سے) کہتے ہیں کہ ”اگر آپ انھیں حکم دیں تو وہ ضرور (جہاد پر) نکلیں گے“ آپ ان سے کہئے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔ مطلوب (قسمیں نہیں بلکہ) دستور کے مطابق [80] اطاعت ہے“ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر [81] ہے۔
[80] طاعہ معروفہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا سچے دل سے عہد کیا ہو۔ وہ اطاعت کر کے دکھا دیتے ہیں اور انھیں قسمیں کھانے کی کبھی ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔ قسمیں کھانے اور قسمیں کھا کر یقین دلانے اور اپنا اعتماد بحال کرنے کی تو ضرورت ہی تب پیش آتی ہے جب کسی کا اعتماد مجروح ہو چکا ہو۔ اور آئندہ بھی اس کی صحیح صورت یہ نہیں کہ بس پکی قسمیں کھا کر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ عملی طور پر اطاعت کر کے دکھا دیں۔ اس طرح قسمیں کھانے کے بغیر ہی ان کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جتنی اور جیسی وہ اطاعت کر رہے ہیں تو وہ پہلے ہی سب کو معلوم ہے۔ پہلے بھی لوگ ایسے بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے تھے اور یقین دہانیاں کراتے تھے۔ قسمیں کھانے کے بعد ایسی اطاعت کی ان سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟
[81] یعنی تم لوگ اگر قسمیں کھا کر لوگوں کو اپنی بات کا یقین دلا بھی دو تو اللہ کے سامنے تو تمہاری ایسی چالاکیاں اور فریب کاریاں کسی کام نہیں آ سکتیں۔ جو تمہاری تمام ظاہری اور باطن خباثتوں سے پوری طرح با خبر ہے اور وہ کسی وقت بھی تمہاری عیاری اور نفاق کا پردہ چاک کر سکتا ہے۔