ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 3

اَلزَّانِیۡ لَا یَنۡکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوۡ مُشۡرِکَۃً ۫ وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِکٌ ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾
زانی مرد نکاح نہیں کرے گا مگر کسی زانیہ عورت سے، یا کسی مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت، اس سے نکاح نہیں کرے گا مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اور یہ کام ایمان والوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔ En
بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے
En
زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کر دیا گیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرکہ عورت کے ساتھ، اور زانیہ کے ساتھ وہی نکاح کرے جو خود زانی یا مشرک ہو۔ اور اہل ایمان پر یہ کام [6] حرام کر دیا گیا ہے۔
[6] اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ سو کوڑے کی سزا صرف کنوارے مرد اور عورت کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے اس سورۃ کے حاشیہ نمبر 3 کے ابتدا میں اس کی وضاحت کی جا چکی ہے اسی آیت کی تشریح میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔
فحاشی میں مشہور مرد یا عورت سے نکاح کرنا حرام ہے:۔
عمرو بن شعیب کے دادا نے کہا کہ مرثد بن ابی مرثد (غنوی) نامی ایک شخص قیدیوں کو مکہ سے مدینہ لے جایا کرتا تھا۔ مکہ میں ایک فاحشہ عورت تھی جس کا نام عناق تھا اور وہ مرثد کی (اسلام لانے سے پہلے) دوست تھی۔ مرثد نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے (مدینہ) لے جائے گا۔ مرثد کہتے ہیں کہ میں ایک چاندنی رات دیواروں کے سایہ میں چھپتے چھپاتے مکہ آیا۔ عناق آئی اور اس نے میرے سایہ کو دیوار کے ساتھ کی طرف سرکتے دیکھا۔ جب میرے قریب آگئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور پوچھا ”مرثد ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں! مرثد ہوں“ وہ کہنے لگی: ”خوش آمدید! آؤ اور ہمارے ہاں یہ رات گزارو“ میں نے کہا: ”عناق! اللہ نے زنا حرام قرار دیا ہے“ وہ بول اٹھی: اے خیمہ والو! یہ شخص ہے جو تمہارے قیدی اٹھا لے جاتا۔ چنانچہ آٹھ آدمی میرے پیچھے لگ گئے میں خندمہ کی راہ پر چلنے لگا اور ایک غار میں جا گھسا۔ وہ آئے اور میرے سر پر کھڑے تھے۔ انہوں نے پیشاب کیا جو میرے سر پر پڑا۔ تاہم اللہ نے انھیں مجھے دیکھنے سے اندھا کر دیا۔ پھر وہ چلے گئے اور میں پھر (مکہ میں) اپنے رفیق کے پاس آیا اور اسے اٹھا لیا وہ ایک بھاری بھر کم آدمی تھا۔ میں اسے اٹھا کر ادخر (کے مقام) تک پہنچا۔ پھر میں نے اس کی مشکیں کھول دیں اور پھر اسے اپنی پشت پر لاد لیا وہ مجھے تھکا تھکا دیتا تھا حتیٰ کہ میں مدینہ پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ”اس عورت سے نکاح نہ کر“ [ترمذي۔ كتاب التفسير]
ہاں اگر کوئی زانیہ عورت یا زانی مرد اللہ کے حضور توبہ کر کے آئندہ کلیتاً اپنا طرز حیات بدل لے تو پھر ایسے لوگوں سے نکاح کی اجازت ہے۔ اس آیت میں عام مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ فحاشی میں مشہور ہوں ان سے رشتہ داری قائم نہ کی جائے۔ نہ انھیں لڑکی کا رشتہ دیا جائے نہ ان سے لیا جائے۔ ﴿حُرِّمَ ذٰلِكَ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ فعل زنا مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب اثم الزناه]
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پاکباز اور عفیف مسلمانوں کے لئے بد کاروں سے رشتہ نکاح کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔