ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 28

فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِیۡہَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡہَا حَتّٰی یُؤۡذَنَ لَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ قِیۡلَ لَکُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ہُوَ اَزۡکٰی لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
پھر اگر تم ان میں کسی کو نہ پائو تو ان میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ تمھیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس چلے جائو تو واپس ہوجائو، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب جاننے والا ہے۔ En
اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو۔ یہ تمہارے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے
En
اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزه ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ تو جب تک تمہیں اجازت [35] نہ ہے اس میں داخل نہ ہونا۔ اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آؤ [36]۔ یہ تمہارے لئے زیاد پاکیزہ طریقہ ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
[35] یعنی جب گھر والوں میں سے کوئی شخص بھی گھر میں موجود نہ ہو اس وقت ہرگز کسی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح ایک دوسرے کے متعلق کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں اور وہ الزام تراشی سے بڑھ کر معاملہ تنازعہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے اس سے استثناء کی صورت صرف یہ ہے کہ صاحب خانہ خود ہی کسی ملاقاتی کو اپنے کمرہ وغیرہ میں یہ کہہ کر بٹھا جائے کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ میں ابھی واپس آتا ہوں۔ اور اس طرح کی اجازت کی بھی کئی صورتیں ممکن ہیں۔
[36] ایسی اجازت لینے کی حد تین بار ہے۔ ممکن ہے پہلی بار اور دوسری بار اجازت کی بات کو صاحب خانہ سن ہی نہ پائے۔ یا وہ اپنے کسی کام میں سخت مشغول ہو اور اتنی جلدی دروازہ تک آہی نہ سکتا ہو۔ لہٰذا تین بار اجازت کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اجازت تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد طلب کرنا چاہئے اور اگر تین بار اجازت طلب کرنے پر بھی اندر سے کوئی جواب نہ ملے تو ملاقات یا داخلہ کے لئے مزید اصرار نہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
اگر تیسری بار بھی اذن نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے :۔
ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ ابو موسیٰ اشعری آئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دوڑے ہوئے اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے: ”میں حضرت عمرؓ کے ہاں گیا تھا میں نے تین بار اذن مانگا مگر مجھے اذن نہیں ملا آخر میں لوٹ گیا۔“ پھر مجھے حضرت عمرؓ نے پوچھا: ”تم کھڑے کیوں نہ رہے؟“ (انتظار کیوں نہ کیا؟) ابو موسیٰ اشعری کہنے لگے: ”میں نے تین بار اذن مانگا اور مجھے اذن نہ ملا تو میں لوٹ آیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص تین بار اذن مانگنے پر اسے اذن نہ دیا جائے۔ تو لوٹ آئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ: اللہ کی قسم! تجھے اس حدیث پر کوئی گواہ لانا ہو گا“ اب بتلاؤ کیا تم سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے“ حضرت ابی بن کعب کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ وہ آدمی شہادت دے گا جو ہم سب میں جھوٹا ہو“ اور ان سب میں جھوٹا میں ہی تھا۔ چنانچہ میں ابو موسیٰ اشعری کے ساتھ گیا اور حضرت عمرؓ کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ایسا فرمایا ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ اس سے حضرت عمرؓ کا ارادہ محض حدیث کا توثیق تھا۔ یہ نہیں کہ وہ خبر راہ کو درست نہ سمجھتے تھے۔ [بخاری۔ کتاب الا ستیعان۔ باب التسلیم والاستیذان ثلثاً]
اور اگر صاحب خانہ دروازہ وغیرہ کھٹکھٹانے پر پوچھے کہ کون ہے؟ تو ایسے واضح الفاظ میں اپنا تعارف کرانا یا نام بتلانا چاہئے جس سے صاحب خانہ کو علم ہو جائے کہ فلاں شخص داخلہ کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں واضح ہے۔
اذن لینے کا طریقہ :۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قرضہ کے سلسلہ میں بات کرنے کے لئے حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازے پر کھٹکھٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر سے) پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا ”میں ہوں“ آپ نے فرمایا: ”میں تو میں بھی ہوں“ گویا آپ نے (نام بتانے کے بجائے) میں ہوں کہنے کو برا سمجھا۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
2۔ اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیرونی دروازہ کے بالکل سامنے نہ کھڑا ہو۔ جبکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ جب صاحب خانہ یا اس کا ملازم یا کوئی اور گھر کا فرد دروازہ کھولے تو اجازت ملنے سے پہلے ہی ملاقاتی کی نظر اندر تک نہ چلی جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ: ”جب نگاہ اندر چلی گئی تو پھر اذن کا مقصد ہی فوت ہو گیا۔“ [ابوداؤد۔ کتاب الادب۔ باب فی الاستیذان]
3۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”نظر بازی کی وجہ سے ہی تو اذن کا حکم دیا گیا ہے۔“ [مسلم۔ کتاب الآداب۔ باب تحریم النظر فی بیت غیرہ]
4۔ اور نظر بازی یا کسی کے گھر میں جھانکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کوئی شخص تمہارے مکان میں جھانکے اور تم کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ [بخاری۔ کتاب الایات باب من اطلع فی بیت قوم فتؤاعینه]
یعنی اگر کوئی شخص ایسے بد نظر شخص کی آنکھ پھوڑ بھی دے تو اس کا قصاص وغیرہ کچھ نہ ہو گا۔