ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 13

لَوۡ لَا جَآءُوۡ عَلَیۡہِ بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ ۚ فَاِذۡ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓئِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۳﴾
وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ En
یہ (افتراء پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے۔ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں
En
وه اس پر چار گواه کیوں نہ ﻻئے؟ اور جب گواه نہیں ﻻئے تو یہ بہتان باز لوگ یقیناً اللہ کے نزدیک محض جھوٹے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ پھر یہ تہمت لگانے والے اس پر چار گواہ کیوں نہ لا سکے؟ پھر جب یہ گواہ نہیں [17] لا سکے تو اللہ کے ہاں یہی جھوٹے ہیں۔
[17] واقعہ افک کا قانونی پہلو:۔
یہ اس واقعہ کا قانونی پہلو ہے کہ ایسی شہادتیں جو بد کاری پر دلالت کرتی ہوں وہ کبھی میسر آبھی نہ سکتی تھیں۔ کیونکہ قرائن سب کے سب خلاف تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ پیچھے رہ جانے والی کوئی عام عورت نہ تھی بلکہ تمام مسلمانوں کی ماں ہے اور پیچھے سے آنے والا بھی پکا مسلمان ہے جو انھیں فی الواقع اپنی ماں ہی سمجھتا ہے۔ ماں اس سے پردہ بھی کر لیتی ہے اور وہ آپس میں نہ اس وقت ہمکلام ہوتے ہیں اور نہ پورے دوران سفر۔ اور یہ سفر صبح سے لے کر دوپہر تک دن دیہاڑے ہو رہا ہے۔ عورت اونٹ پر سوار ہے اور مرد خاموش آگے آگے چل رہا ہے۔ تاآنکہ وہ مسلمانوں کے لشکر سے جا ملتا ہے۔ ایسے حالات میں بد گمانی کی محرک صرف دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ گمان کرنے والا خود بد باطن اور خبیث ہو۔ جو ایسے حالات میں خود یہی کچھ سوچتا یا کرتا ہو اور اس طرح دوسرے سب لوگوں کو بھی اپنی ہی طرح سمجھتا ہوں۔ اور دوسری یہ کہ وہ ایسے موقع کو غنیمت مان کر از راہ دشمنی ایسی بکواس کرنے لگے اور منافقوں میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں۔