ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 1

سُوۡرَۃٌ اَنۡزَلۡنٰہَا وَ فَرَضۡنٰہَا وَ اَنۡزَلۡنَا فِیۡہَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱﴾
(یہ) ایک عظیم سورت ہے، ہم نے اسے نازل کیا اور ہم نے اسے فرض کیا اور ہم نے اس میں واضح آیات اتاری ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ En
یہ (ایک) سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اس (کے احکام) کو فرض کر دیا، اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو
En
یہ ہے وه سورت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کردی ہے اور جس میں ہم نے کھلی آیتیں (احکام) اتارے ہیں تاکہ تم یاد رکھو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ یہ ایک سورت ہے [1] جسے ہم نے نازل کیا [2] اور (اس کے احکام کو) لوگوں پر فرض کر دیا اور اس میں واضح آیات نازل فرمائیں تاکہ سبق حاصل کرو۔
سورہ نور کے نزول کا پس منظر:۔
سورۃ نور غزوہ بنی مصطلق کے بعد 6 ہجری میں نازل ہوئی۔ اور غزوہ بنی مصطلق، غزوہ احزاب یا غزوہ خندق کے بعد واقع ہوا تھا۔ غزوہ خندق کے موقع پر اتحاد کافروں کا لشکر دس ہزار کے لگ بھگ تھا اور یہ لشکر ایک ماہ کے بعد ناکام واپس لوٹا تھا۔ اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”آج کے بعد کافر ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ بلکہ اب ہم ان پر حملہ آور ہوا کریں گے“ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ اسلام اور اسلامی ریاست اتنی مضبوط اور اپنے پاؤں پر قائم ہوچکی تھی۔ اور کفر کی تمام قوتوں، جس میں مشرکین مکہ، دوسرے مشرک عرب قبائل، مدینہ کے یہود اور منافقین سب شامل تھے، میں اب اتنی سکت باقی نہ رہ گئی تھی کہ سب مل کر بھی مدینہ پر حملہ آور ہوسکیں۔ میدان جنگ میں مات کھانے کے بعد ان لوگوں نے یہ حربہ اختیار کیا کہ جس طرح بن پڑے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرکے اور ان میں پھوٹ ڈال کر اس طاقت کو کمزور بنا دیا جائے۔ منافق چونکہ مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے تھے اس لئے وہ اس سلسلہ میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ غزوہ بنی مصطلق سے واپسی سفر کے دوران عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے اسی سازش کے تحت دو کارنامے سرانجام دیئے۔ اتفاق سے انصار اور مہاجرین میں کچھ جھگڑا ہوگیا۔ تو عبد اللہ بن ابی نے اس واقعہ کو اتنی ہوا دی کہ حمیت جاہلیت سے کام لے کر انصار اور بالخصوص منافقوں کو اتنا برافروختہ کردیا کہ قریب تھا کہ ان میں لڑائی چھڑ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً موقع پر پہنچ کر حالات پر کنٹرول کرلیا۔ اس دوران عبد اللہ بن ابی نے بہت بکواس کی جس کا تفصیلی ذکر سورۃ منافقون میں آئے گا۔ دوسرا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگا دی اور یہ واقعہ ’افک‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس واقعہ کا ان منافقوں نے اس قدر پروپیگنڈا کیا کہ بعض مخلص مسلمان بھی اس پروپیگنڈا سے متاثر ہوگئے۔ واقعہ افک کا تفصیلی ذکر تو آگے آرہا ہے سردست یہ بتلانا مطلوب ہے کہ پورا مہینہ یہ افواہیں پھیلتی رہیں۔ منافق اس تہمت کو پھیلانے میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے تھے۔ اور اتفاق کی بات کہ وحی بھی نازل نہیں ہو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسئلہ میں پورا ایک مہینہ پریشان رہے۔ ایک ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نور نازل فرمائی جس میں حضرت عائشہؓ کی واشگاف الفاظ میں بریت فرمائی۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے لئے نہایت مفید احکام اور پند و نصائح نازل فرمائے۔
[2] سورۃ کی پہلی آیت بطور تمہید ہے۔ جس میں صیغہ جمع متکلم کا تین بار تکرار کر کے اس سورۃ میں نازل کردہ احکام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز فرمایا کہ ان احکام کی حیثیت بعض سفارشات کی نہیں بلکہ ان پر عمل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ احکام ہیں بھی ایسے جس میں کسی قسم کا الجھاؤ یا ابہام نہیں تاکہ ہر کوئی حکم تم پر مشتبہ ہو جائے۔ اور ان احکام کو تمہیں ہر وقت یاد رکھنا چاہئے بھولنا نہیں چاہئے۔