ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 8

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾
اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔ En
اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں
En
جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاﻇت کرنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اور جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان [8] کا پاس رکھتے ہیں
[8] امانتوں سے مراد ہر وہ امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا معاشرہ کی طرف سے یا کسی فرد کی طرف سے کسی شخص کے سپرد کی گئی ہو۔ خواہ یہ امانت منصوبوں سے تعلق رکھتی ہو یا اقوال سے یا اموال سے ان سب کی پوری پوری نگہداشت ضروری ہے۔ یہی صورت مال، عہد اور معاہدات کی ہے۔ خواہ کوئی عہد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے بندوں سے لیا ہو۔ خواہ یہ آپس کا قول و قرار ہو اور خواہ یہ معاہدہ بیع یا نکاح سے متفق ہو۔ ان کو وفا کرنا ضروری ہے۔ امانت میں خیانت اور وعدہ خلافی دونوں ایسے جرم ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی علامتیں قرار دیا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
1۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے۔ [بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب علامۃ المنافق]
2۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی جب تک اسے چھوڑ نہ دے جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو بے وفائی کرے۔ اور جب جھگڑا کرے تو بکواس یا ناحق کی طرف چلے“ [بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب علامۃ المنافق]
اب دیکھئے پہلی حدیث میں صرف تین علامتیں مذکور ہیں جن میں دو یہی ہیں جو اس آیت میں مذکور ہیں اور دوسری میں جو چار علامتیں مذکور ہیں ان میں سے دو یہی باتیں ہیں۔