ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 78

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (لیکن) تم کم شکرگزاری کرتے ہو
En
وه اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل [79] عطا کئے (تاکہ تم سنو، دیکھو اور غور کرو) مگر تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔
[79] یعنی اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو جتنا جانور لیتے ہیں۔ دیکھو تو صرف وہ چیز دیکھو جس سے تمہیں دنیوی فائدہ نظر آتا ہو۔ اور سنو تو بھی ایسی ہی بات سنو اور سوچو تو صرف اپنے کاروبار اور روزگار کی بات سوچو یا یہ فکر کرو کہ کون کون سے وسائل سے تمہاری آمدنی کے ذرائع میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آخر اللہ نے تمہیں جانوروں سے کچھ زائد قوتیں بھی عطا فرمائی ہیں ان سے تم نے کیا کام لیا؟ اللہ نے تمہیں آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ اپنی دنیوی ضرورتیں ہی پوری کرو مگر کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو بھی دیکھو۔ منزل من اللہ آیات کو اپنے کانوں سے غور سے سنو۔ پھر ان تمام نشانیوں میں غور و فکر کر کے معرفت الٰہی حاصل کرو۔ اور اس کا شکر بجا لاؤ۔ جانوروں کی طرح ان قوتوں کو محض دنیوی مفادات میں کھپا دینا جہاں ایک طرف اللہ کی ناشکری پر دلالت کرتا ہے وہاں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تم اپنے آپ کو جانوروں سے بھی بد تر مخلوق ثابت کر رہے ہو۔