ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 76

وَ لَقَدۡ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَکَانُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ مَا یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۷۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔ En
اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے ہی نہیں
En
اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ اور ہم نے انھیں عذاب میں مبتلا کیا تو بھی یہ [76] نہ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ آہ و زاری کی
[76] کفار مکہ پر قحط:۔
جب ابتدائے اسلام میں ہی کفار مکہ نے مسلمانوں اور پیغمبر اسلام پر مصائب ڈھانا شروع کئے اور یہاں تک مخالفت کی کہ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حضور ان کے حق میں بددعا کی اور فرمایا: ”یا اللہ! ان پر حضرت یوسفؑ والے قحط کے سات سال مسلط کر۔“ چنانچہ آپ کی دعا قبول ہو گئی تو ان پر قحط کا عذاب آ گیا۔ بارشیں رک گئیں۔ باہر سے غلہ آنا بھی رک گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ یہ لوگ مردار، ہڈیاں اور خون تک کھانے پر مجبور ہو گئے مگر بھوک پھر بھی نہ مٹتی تھی۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے اور بھوک کی وجہ سے اتنے کمزور ہو گئے کہ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو انھیں دھواں نظر آتا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور سورۃ دخان میں صراحت سے مذکور ہے۔ بالآخر ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا تم تو رشتہ جوڑنے کی تاکید کرتے رہتے ہو اور ہم تمہاری ہی برادری ہو کر بھوکوں مر رہے ہیں ہمارے لئے اللہ سے رحم کی دعا کر۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور اللہ نے رحم کر دیا۔ بارشیں بھی شروع ہو گئیں اور باہر سے غلہ آنا بھی اور بھلے دن آگئے پھر کفار مکہ سب باتیں بھول گئے اور پھر پہلے کی طرح مسلمانوں کو دکھ دینا شروع کر دیا۔