فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾
پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔
En
اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں
En
جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ البتہ ان کے سوا جو کچھ اور ذریعہ چاہے تو ایسے ہی لوگ حد [7] سے بڑھنے والے ہیں۔
[7] شہوانی خواہش کی تین ممکنہ صورتیں اور راہ اعتدال:۔
شہوانی خواہشات کے سلسلہ میں تین ہی صورتیں ممکن تھیں۔ ایک یہ کہ انسان ایسی خواہشات کو کلیتاً ترک کر دے۔ دوسری یہ کہ ان خواہشات کی تکمیل میں انسان کلیتاً آزاد ہو اور تیسری یہ کہ کوئی معتدل روش اختیار کی جائے۔ اسلام نے ان میں سے معتدل روش کو اختیار کیا ہے۔
جائز نکاح اور ملک یمین کے علاوہ باقی سب صورتیں حرام ہیں:۔
یعنی ان خواہشات کی تکمیل کا راستہ کھول تو دیا۔ لیکن صرف جائز نکاح یا ملک یمین کی صورت میں۔ باقی دونوں انتہا پسندانہ عورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ نہ رہبانیت کی ترک خواہش کو پسند فرمایا اور نہ اس سلسلہ میں شتر بے مہار قسم کی آزادی کو۔ اس آیت میں اسی بے لگام آزادی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس میں زنا، لواطت یا لونڈے بازی، عورتوں کی ہم جنسی، جلق یا مشت زنی غرضیکہ شہوت رانی کی جتنی بھی صورت مندرجہ بالا دو صورتوں کے علاوہ ممکن ہیں سب ناجائز قرار پاتی ہیں۔ واضح ہے کہ جائز نکاح سے مراد ایسا نکاح ہے جو عورت کو بسانے کے لئے کیا جائے۔ عورت کی رضا کو مقدم سمجھا جائے۔ عورت کا نکاح اس کا ولی کرے، نکاح کا اعلان ہو اور کم از کم دو گواہ موجود ہوں اور حق مہر مقرر کیا جائے۔ ان شرائط کو پوری نہ کرنے والا نکاح مثلاً نکاح متعہ، نکاح حلالہ یا نکاح شعار جائز نہیں۔ دور نبوی میں اور بھی کئی قسم کے نکاح رائج تھے۔ جو یہ شرائط پوری نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا وہ از خود باطل قرار پا گئے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ چار طرح پر نکاح کیا کرتے تھے۔ ایک تو وہی معروف نکاح ہے۔ جیسے آج کل بھی لوگ کرتے ہیں یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو نکاح کے لئے کہتا اور وہ اپنی کسی رشتہ دار عورت (مثلاً بہن، بھتیجی، بھانجی وغیرہ) یا بیٹی کا مہر ٹھہرا کر نکاح کر دیتا۔ (اسی قسم کے نکاح کو اسلام نے بحال رکھا ہے) دوسری صورت یہ تھی کہ جب کسی کی بیوی حیض سے پاک ہو جاتی تو شوہر اپنی بیوی سے کہتا کہ تو فلاں شخص کو اپنے پاس بلا لے اور اس سے لپٹ جا۔ (یعنی اس سے ہمبستری کر) جب عورت اس مرد سے صحبت کر چکتی تو اس کا خاوند اس سے اس وقت تک علیحدہ رہتا جب تک کہ اس غیر مرد کا حمل نمایاں نہ ہو جاتا۔ اور جب حمل واضح ہو جاتا تو اس کے اس کا خاوند اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ اور شوہر اپنی بیوی سے یہ کام اس لئے کرتا تھا کہ بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو (تاکہ وہ شوہر کی ناموری کا باعث ہو) ایسے نکاح کو نکاح استبضاع کہا کرتے تھے۔ نکاح کی تیسری صورت یہ تھی کہ ایک عورت کے شوہر کئی مرد ہوتے تھے لیکن یہ دس سے کم ہی ہوتے تھے۔ اور وہ سب اس عورت سے صحبت کیا کرتے۔ پھر جب اسے حمل قرار پا جاتا تو وہ وضع حمل کے چند دن بعد ان سب شوہروں کو بلا بھیجتی اور اس کی دعوت پر ان سب کو آنا پڑتا تھا۔ جب وہ اس کے ہاں اکٹھے ہو جاتے تو وہ ان سے کہتی۔ جو کچھ تم کرتے رہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ اب میرے ہاں جو بچہ پیدا ہوا ہے یہ تم سے فلاں کا بچہ ہے۔ اس معاملہ میں اس عورت کو پورا اختیار ہوتا کہ جس کا وہ چاہتی نام لے لیتی اور وہ بچہ اسی کا ہو جاتا اور کسی کو اس کے فیصلہ سے انکار کی مجال نہ ہوتی۔ (کیونکہ قومی رسم ہی یہی تھی) اور چوتھی صورت یہ تھی کہ کسی عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے رہتے اور وہ ہر ایک سے صحبت کرا لیتی کسی سے بھی انکار نہ کرتی اور وہ کنجریاں تھیں جن کے دروازے پر پہچان کے لئے جھنڈا لگا دیتے۔ اب جس شخص کا جی چاہتا وہ اس سے صحبت کر سکتا تھا پھر جب اسے حمل ٹھہر جاتا اور بچہ جنتی تو اس کے ہاں جانے والے سب مرد اس عورت کے ہاں اکٹھے ہو جاتے اور کسی قیافہ شناس کو اپنے پاس بلاتے۔ قیافہ شناس علم قیافہ کی رو سے جس مرد کو اس بچہ کا باپ بتاتا وہ بچہ اسی کا بیٹا ہو جاتا وہ ان کا باپ کہلاتا۔ اور قیافہ شناس کے فیصلہ سے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوتی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو آپ نے جاہلیت کے سب نکاح موقوف کر دیئے۔ بس ایک ہی قسم کا نکاح باقی رکھا جو آج کل لوگ کرتے ہیں۔ [بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب من قال لانکاح الا بولی۔۔]