ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 64

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِیۡہِمۡ بِالۡعَذَابِ اِذَا ہُمۡ یَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ؕ۶۴﴾
یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے۔ En
یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلاّئیں گے
En
یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسوده حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا تو وه بلبلانے لگے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاش لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو اس وقت وہ چیخنا چلانا [65] شروع کر دیں گے
[65] یعنی جب عذاب الٰہی آتا ہے تو واویلا اور چیخ پکار کرنے والے بھی وہی لوگ ہوتے ہیں جو آسودہ حال اور چودھری ٹائپ ہوتے ہیں۔ یہی لوگ نبیوں کی تکذیب، انھیں ایذائیں پہچانے اور عوام کو اللہ کی راہ سے روکنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اور عذاب نازل ہونے پر چیخنے چلانے والے بھی یہی ہوتے ہیں۔ حالانکہ جب عذاب آجاتا ہے تو پھر چیخنے چلانے یا فریادیں کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ نہ ہی کوئی طاقت انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔