ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 53

فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ زُبُرًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۳﴾
پھر وہ اپنے معاملے میں آپس میں کئی گروہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہر گروہ کے لوگ اسی پربہت خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔ En
تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کرکے جدا جدا کردیا۔ جو چیزیں جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے
En
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیئے، ہر گروه جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ پھر لوگوں نے اپنے (دین کے) کام کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا [57]۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے۔
[57] دین کے اصول چار اور فرقے سینکڑوں:۔
یعنی اصل دین میں چند موٹی موٹی باتیں شامل تھیں۔ اور ہر نبی یہی اصول دین پیش کرتا رہا۔ مگر لوگوں نے انھیں اصول دین میں اختلاف کر کے سینکڑوں فرقے بنا ڈالے۔ مثلاً پہلی شق توحید ہی کو لیجئے۔ شیطان نے شرک کی بیسیوں نئی سے نئی قسمیں ایجاد کر کے لوگوں کو اس راہ پر ڈال دیا بعض لوگوں نے کسی شخص، نبی یا فرشتوں کو اللہ کی اولاد قرار دیا۔ حلول اور اوتار کا عقیدہ وضع کیا اور اللہ تعالیٰ کو بعض لوگوں کے اجسام میں اتار دیا۔ کسی نے کہا کہ فلاں ہستی اللہ کے نور میں سے (جدا شدہ) نور ہے۔ کئی ہستیوں کو اللہ کے علاوہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر تسلیم کیا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت انسان نے جسے تمام مخلوق سے افضل و اشرف پیدا کیا گیا تھا، اپنے نفع و نقصان کو پتھروں، درختوں، مویشیوں، ستاروں، جن بھوتوں اور آستانوں سے وابستہ کر دیا۔ اور ان کے آگے سر تسلیم خم کرنے لگا۔ انھیں سے مرادیں مانگنے لگا۔
فرقے کیسے بنتے ہیں اور ہر فرقہ کی خود پسندی:۔
دوسری شق آخرت پر ایمان ہے۔ بعض لوگوں نے تو روز آخرت اور دوبارہ جی اٹھنے کا انکار ہی کر دیا۔ اور جنہوں نے اسے تسلیم کیا۔ انہوں نے بھی اس کے تقاضوں کو نہ سمجھا۔ بعض نے کہا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد یا سادات ہیں۔ لہٰذا ہمیں کیسے عذاب ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں نے سفارش کے عقیدے وضع کر لئے اور اگر فلاں حضرت کی بیعت کر لی جائے تو وہ شفاعت کر کے ہمیں چھڑا لیں گے۔ بعض نے یہی عقیدہ اپنے دیوتاؤں سے یا بتوں سے وابستہ کر دیا۔ نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا اور بعض پادری حضرات اس دنیا میں ہی لوگوں سے رقوم بٹور کر کے ان کے لئے معافی نامے جاری کرنے لگے۔ اور بعض لوگوں نے عقیدہ وضع کیا کہ اگر فلاں حضرت کے بہشتی دروازہ سے اس کے عرس کے دن نیچے سے گزرا جائے تو یقیناً نجات ہو جائے گی ایسے سستی نجات کے سب عقیدے لغو اور باطل ہیں۔ اور قرآن نے ایسے عقائد رکھنے والوں کو آخرت کے منکر یعنی کافر قرار دیا ہے۔ تیسری شق حلال اور پاکیزہ اشیاء کھانے سے متعلق تھی تو اس میں بھی لوگوں نے افراط و تفریط کی راہیں پیدا کر لیں۔ رہبان و مشائخ اور بعض صوفیاء نے اپنے اوپر حلال اشیاء کو حرام قرار دے لیا۔ اور بعض دوسروں نے حرام و حلال کی تمیز ہی ختم کر دی اور سود جیسی حرام چیز کو جسے ساری شریعتوں میں حرام قرار دیا جاتا رہا ہے اسے حلال ثابت کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے علماء و مشائخ اور بتوں کے مہنتوں اور مقبروں اور مزاروں کے مجاوروں نے حلت و حرمت کے اختیار خود سنبھال لئے اور ایسے لوگوں کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ چوتھی شق عمل صالح کی تھی۔ تو غالباً اس شق میں شرک سے بھی زیادہ فرقہ بازی ہوئی۔ دین کے بعض اصولی احکام کو مسخ کر کے بدعی عقائد و اعمال شامل کر دیئے گئے اور ان باتوں کی اصل بنیاد حب جاہ و مال تھی اور بے شمار سیاسی اور بدعی قسم کے فرقے وجود میں آ گئے۔ انہی میں سے ایک تقلید شخصی کا عقیدہ ہے جس کے ذریعہ اماموں کو نبیوں کا درجہ دے دیا گیا یا ان سے بھی بڑھ کر سمجھا گیا۔ گویا اس سادہ اور مختصر سی اصولی تعلیم سے اختلاف کر کے لوگ جو فی الحقیقت ایک ہی امت تھے سینکڑوں اور ہزاروں فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے فرقوں کو دوزخ کا ایندھن سمجھتا ہے۔ حالانکہ یہ اصولی تعلیم آج بھی موجود ہے اور اگر کوئی شخص یا کوئی فرقہ تعصب سے بالاتر ہو کر راہ حق کو تلاش کرنا چاہے تو راہ حق آج بھی ایسی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے جس کا سراغ نہ لگایا جا سکتا ہو۔