ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 51

یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿ؕ۵۱﴾
اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھائو اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔ En
اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل نیک کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں
En
اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ اے پیغمبروں کی جماعت [53]! پاکیزہ چیزیں [54] کھاؤ اور نیک اعمال کرو جو کچھ تم کرتے رہے ہو [55] میں اسے خوب جانتا ہوں
[53] خطاب کا یہ انداز اس لحاظ سے نہیں کہ سارے رسول کسی ایک جگہ اکٹھے کئے گئے تھے تو انھیں اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔ بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ چونکہ سارے رسولوں کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہٰذا بطور اختصار یہاں خطاب کا مشترکہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ نیز اس آیت میں اگرچہ خطاب رسولوں کو ہے تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور قرآن کریم نے بعض مقامات پر تو ﴿يٰا ايُّهَا النَّاس کہہ کر حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے اور بعض مقامات پر اس حکم کے مخاطب ایمان لانے والے ہیں۔
[54] رسولوں کو پاکیزہ اشیاء کھانے کا حکم:۔
پاکیزہ چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا کھانا شریعت نے حلال قرار دیا ہو اور انھیں حلال ذرائع سے ہی حاصل کیا گیا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مرغی بذات خود حلال چیز ہے مگر جب یہ چوری کی ہو تو حرام ہو جائے گی۔ اسی طرح سود یا دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ حرام مال تصور ہو گا۔
کسب حلال کی اہمیت:۔
کسب حلال اور حرام سے اجتناب اس قدر اہم حکم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال سے پہلے ذکر فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی کی کمائی حرام کی ہو تو اس کے نیک اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔ اس سلسلہ میں ہم سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 168 کے تحت آٹھ حدیثیں درج کر چکے ہیں جن کو دوبارہ دیکھ لینا مفید ہو گا۔ تاکہ اس اہم شرعی حکم کی اہمیت پوری طرح معلوم ہو جائے۔
[55] یعنی اگر کسی نے کسب حلال میں حرام کی آمیزش کی ہو تو اسے میں خوب جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہارے اعمال میں اللہ کی رضا مندی اور خلوص کا حصہ کتنا تھا۔ یہ مطلب اس لحاظ سے ہو گا جب اس خطاب کا روئے سخن عام لوگوں یا ایمانداروں کی طرف سے سمجھا جائے کیونکہ انبیاء سے کسی قسم کی نافرمانی کا انکار نہیں اور اگر اس کا روئے سخن انبیاء کی طرف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تم نے حق تبلیغ کس حد تک ادا کیا ہے۔