ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 45

ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی وَ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ ۬ۙ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۴۵﴾
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور واضح غلبہ دے کر بھیجا۔ En
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا
En
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل کے ساتھ بھیجا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو معجزے اور روشن دلیل [47] دے کر بھیجا
[47] سلطان کا لغوی مفہوم:۔
سلطان بمعنی غلبہ، قوت، اختیار (منجد، مقائیس اللغۃ) اور بمعنی فرمان شاہی (منجد) یعنی اتھارٹی یا اتھارٹی لیٹر (Authority Letter) وہ اختیار یا اختیار نامہ جو کسی حاکم اعلیٰ سے اس کے نائب کو ملا ہو۔ (اور سلطان بمعنی بادشاہ اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے لغوی نہیں۔ نہ ہی قرآن نے اس لفظ کو کسی بھی جگہ ان معنوں میں استعمال کیا ہے) اور اس مقام پر سلطان مبین سے مراد یا ان دونوں نبیوں کی نبوت ہے یا وحی الٰہی۔ اور آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰؑ کو دیئے گئے صرف عصا اور ید بیضا ہی نہیں بلکہ دوسرے معجزات بھی کیونکہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تثنیہ کا نہیں۔ نیز آیات سے مراد احکام الٰہی بھی ہو سکتے ہیں۔ جو فرعون کے پاس جاتے وقت انھیں دیئے گئے تھے۔ اور جن سے یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ ان کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت قوت موجود ہے۔