32۔ تو ان کی طرف انھیں میں سے [36] ایک رسول بھیجا، (جس نے انھیں کہا کہ) اس اللہ کی عبادت کرو جس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟[37]
[36] یہ اور نسل یا اور قوم عاد یا عاد اولیٰ تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم کے بعض دوسرے مقامات میں حضرت نوحؑ کے بعد اسی قوم کا ذکر ہوا ہے۔ اور ان کی طرف حضرت ہودؑ کو بھیجا گیا تھا۔ [37] یعنی اللہ کے ساتھ دوسرے شریک بنانے کے برے انجام سے تمہیں خطرہ پیدا نہیں ہوتا کہ کہیں ہم پر قہر الٰہی نازل نہ ہو جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔