ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 30

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنۡ کُنَّا لَمُبۡتَلِیۡنَ ﴿۳۰﴾
بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں اور بلاشبہ یقینا ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔ En
بےشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی
En
یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ اس واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی [35] رہتے ہیں۔
[35] یعنی حضرت نوحؑ کے قصہ میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ایک غور کرنے والا انسان سبق حاصل کر سکتا ہے۔ اور جب ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس وقت قوم کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ نبی اور اس کے پیروکاروں کا بھی کہ وہ کس حد تک صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں اور جھٹلانے والوں کا بھی کہ وہ کس حد تک سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ پھر جو اس امتحان میں کامیاب ہوں انھیں انعامات سے نوازتے بھی ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور معاندین کو قرار واقعی سزا بھی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنے والی قوم میں سے کون ان نشانیوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟