29۔ اور (یہ بھی) کہنا کہ: ”میرے پروردگار! مجھے برکت والی جگہ اتارنا اور تو سب سے بہتر اتارنے والا [34] ہے۔“
[34] یہ بھی اس دعا کا حصہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو کشتی میں سوار ہوتے وقت سکھلائی تھی۔ اس دعاء میں: ﴿اَنْتَخَيْرُالْمُنْزِلْيْنَ﴾ کا ایک معنی تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ ”تو بہت اچھا مہمان نواز ہے یا بہت اچھا میزبان ہے“ جیسا کہ یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا: ”کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ناپ میں بھی پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی بہت اچھا ہوں“ [12: 59] مطلب یہ کہ مجھے بابرکت جگہ پر کشتی سے اتارنا اور اترنے کے بعد ہمیں وافر رزق بھی مہیا فرمانا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔