﴿خَشَعَ﴾ کے معنی ایسی عاجزی ہے جو دل میں ڈر اور ہیبت طاری ہونے کی وجہ سے ہو۔ پھر اس ڈر اور عاجزی کے اثرات اعضا و جوارح ہے پر بھی ظاہر ہونے لگیں۔ آنکھیں مرعوب ہو کر جھک جائیں اور آواز پست ہو جائے چنانچہ ایسے مقامات پر بھی قرآن نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے، پھر اسی خشوع کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ انسان نماز میں با ادب کھڑا ہو۔ ادھر ادھر نہ دیکھے، نہ اپنے کپڑوں کو سنوارتا رہے نہ اپنی داڑھی وغیرہ سے کھیلتا رہے۔ اور نہ دل میں نماز پر توجہ کے علاوہ دوسرے خیالات آنے دے۔ اور خیالات آنے بھی لگیں تو فوراً ادھر سے توجہ ہٹا کر یہ سوچنے لگے کہ وہ نماز میں اپنے مالک کے سامنے دست بستہ کھڑا ہے اور اس بات پر توجہ دے کہ وہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے۔ خشوع اگرچہ اجزائے صلوٰۃ کے لئے شرط نہیں تاہم حسن قبول کے لئے لازمی شرط ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔