ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 12

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔ En
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست [11] سے پیدا کیا۔
[11] انسان کی پیدائش اور مٹی کے جوہر کا مفہوم:۔
﴿سلاَلَةٌ بمعنی خلاصہ، نچوڑ، ست، جوہر، کسی بھی چیز سے نکالا ہوا کارآمد حصہ (مفردات القرآن) اور انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ حضرت آدمؑ کا پتلا مٹی سے بنایا گیا۔ پہلے یہ خشک مٹی تھی۔ پھر اس میں پانی ملایا گیا تو یہ گارا بن گیا۔ پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا جس میں بدبو پیدا ہو گئی۔ پھر اسے گوندھ کر اس کا چپک دار اور لیس دار حصہ لیا گیا اور اسے خشک کر لیا گیا۔ پھر اسے حرارت پہنچائی گئی حتیٰ کہ وہ ٹن کی طرح بجنے لگا۔ جبکہ مٹی کے برتن اور ان کی مختلف شکلیں بنائیں اور آگ میں پکائی جاتی ہیں۔ اور ان میں مٹی کا صرف چپک دار اور کار آمد حصہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اسی مٹی سے آدمؑ کا پتلا تیار ہوا جس میں اللہ نے اپنی روح سے پھونکا تو جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا۔ پھر آئندہ آدم کی نسل توالد و تناسل اور نطفہ سے چلی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے نطفہ بذات خود انسان کے جسم میں انھیں غذاؤں سے بنتا ہے جو زمین سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے نطفہ بھی بالآخر زمین ہی کا جوہر ہے۔