ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 114

قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا لَّوۡ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔ En
(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔ کاش تم جانتے ہوتے
En
اللہ تعالیٰ فرمائے گا فی الواقع تم وہاں بہت ہی کم رہے ہو اے کاش! تم اسے پہلے ہی سے جان لیتے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

114۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”واقعی تم تھوڑا ہی عرصہ [106] وہاں ٹھہرے تھے۔ کاش تم یہ بات (اس وقت بھی) جانتے ہوتے۔
[106] یعنی یہی بات تو اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ اور نا پائیدار ہے۔ لہٰذا دنیا اور اس کے ساز و سامان پر مست نہ ہو جاؤ بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ لیکن اس وقت تو تم ہماری اس بات کا بھی مذاق اڑایا کرتے تھے اور یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بس یہ دنیا ہی دنیا اصل حقیقت ہے۔ لہٰذا ہم جتنے مزے اڑا سکتے ہیں اڑا لیں۔ پھر کب ایسا موقع ملے گا؟ اور آج تم خود اس بات کا اقرار کر رہے ہو۔ کاش یہی بات تمہیں دنیا کی زندگی میں معلوم ہو جاتی۔