ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 113

قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّیۡنَ ﴿۱۱۳﴾
وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔ En
وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیئے
En
وه کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، گنتی گننے والوں سے بھی پوچھ لیجیئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

113۔ وہ کہیں گے: ”یہی کوئی ایک دن یا اس کا کچھ حصہ۔ اور یہ بات تو شمار کونے والوں [105] سے پوچھئے“
[105] ان مذاق اڑانے والوں اور دوزخ میں داخل ہونے والوں سے اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے سوال کریں گے: ”بھلا بتلاؤ تو کہ تم زمین میں کتنے سال مقیم رہے؟“ اس سوال میں زمین سے مراد صرف دنیا کی زندگی بھی ہو سکتی ہے اور قبر کی زندگی سمیت مجموعی زندگی بھی۔ جس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ہمیں تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم زمین میں بھی کوئی ایک آدھ دن مقیم رہے ہیں اور ٹھیک ٹھیک مدت تو شمار کرنے والے ہی بتلا سکتے ہیں۔ ان سے پوچھ لیجئے۔ اس جملہ میں عادین یا شمار کرنے والوں سے مراد اعمال نامہ مرتب کرنے والے فرشتے بھی ہو سکتے ہیں۔ جو ایک ایک دن بلکہ ایک ایک گھڑی کے اعمال ساتھ ہی ساتھ ریکارڈ کرتے جا رہے ہیں۔