ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 11

الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾
جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے
En
جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وه ہمیشہ رہیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ جو فردوس [10] کے مالک ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
[10] جنت کا سب سے اعلیٰ مقام جنت الفردوس:۔
فردوس بمعنی سرسبز وادی (منجد) اور بمعنی رودبار میں واقع باغ جس میں ہر قسم کے پھل اور پھول موجود ہوں (منتہی الارب) گویا جنت الفردوس سے مراد جنت کا وہ حصہ ہے جس میں گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں والے سرسبز درخت بکثرت ہوں۔ پھولوں کی خوشبو سے معطر ہو اور اس میں ہر قسم کے پھل با افراط ہوں۔ اور جنت الفردوس جنت کا سب سے بلند طبقہ اور عین وسط میں ہو گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ربیع بنت نضر کا بیٹا حارثہ بن سراقہ بدر کے دن ایک غیبی تیر سے شہید ہو گیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہنے لگیں: مجھے حارثہ کا حال بتلائیے اگر وہ خیر کو پہنچا تو میں ثواب کی امید رکھوں اور صبر کروں اور اگر نہیں پہنچا تو میں اس کے لئے دعا کرتا رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام حارثہ! جنت میں بہت سے باغ ہیں اور تیرا بیٹا تو فردوس بریں میں داخل ہوا ہے جو جنت کے وسط میں بلند زمین اور سب سبے بلند مقام ہے“ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اسی جنت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی: ﴿اَللّٰهُمَّ اِنِيْ اَسْئَلُكَ الْجَنَّةَ الْفِرْدُوْسَ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔ (نیز جنت کی وراثت کے سلسلہ میں سورۃ اعراف آیت نمبر 43 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے) مندرجہ بالا آیات کے نزول کے وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اور ان آیات کے نزول پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے حق میں جو دعا فرمائی۔ مندرجہ ذیل حدیث سے اس حالت کا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے:
حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے آس پاس شہد کی مکھی کی گنگناہٹ جیسی آواز آنے لگتی تھی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو تھوڑی ہی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ کر کے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی: ”اے اللہ! ہمیں زیادہ کر، تھوڑے نہ رہنے دے، ہمیں عزت عطا فرما، ذلیل نہ رہنے دے ہمیں عطا کر اور محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر مقدم کر، دوسروں کو ہم پر مقدم نہ رکھ، ہمیں خوش کر دے اور ہم سے خوش ہو جا!“ اس دعا کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرے گا، جنت میں داخل ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ سے لے کر دس آیات پڑھیں۔ [ترمذي۔ كتاب التفسير]