ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 108

قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾
فرمائے گا اس میں دور دفع رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ En
(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو
En
اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”مجھ سے دفع ہی رہو [102] اور اسی آگ میں پڑے رہو اور مجھ سے بات بھی نہ کرو۔
[102] ﴿خسأ﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿خساء﴾ کا لفظ کتے اور سور کو دھتکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے ہم پنجابی زبان میں کتے کو دھتکارنے یا دفع کرنے کے لئے ”در در“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پھر اس کا استعمال ہر اس شخص کے لئے بھی ہونے لگا جسے حقیر اور ذلیل سمجھ کر دفع ہونے یا نکل جانے کو کہا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی التجا کے جواب میں فرمائے گا کہ تم اس قدر ذلیل مخلوق ہو کہ تمہارا اس جہنم میں پڑے رہنا ہی مناسب ہے اور دیکھو! آئندہ مجھ سے کوئی ایسی التجا نہ کرنا۔