ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 71

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ مَا لَیۡسَ لَہُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿۷۱﴾
اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور جس کا انھیں کچھ علم نہیں اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ En
اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا
En
اور یہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جس کی کوئی خدائی دلیل نازل نہیں ہوئی نہ وه خود ہی اس کا کوئی علم رکھتے ہیں۔ ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ یہ لوگ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہیں جن کے لئے نہ تو اللہ نے کوئی دلیل اتاری ہے اور نہ ہی خود [99] انھیں کچھ علم ہے۔ ان ظالموں کا کوئی بھی مددگار [100] نہ ہو گا۔
[99] اللہ کے دوسروں کو اختیارات تفویض کرنے پر کوئی علمی دلیل نہیں:۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی کتاب میں کہیں بھی یہ ذکر موجود نہیں کہ اس نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ لہٰذا ان کاموں میں تم ان سے رجوع کر کے ان سے اپنی حاجات طلب کر سکتے ہو۔ نہ ہی انھیں کسی علمی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ امور کائنات میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو بھی تصرف کا حق حاصل ہے۔ اور اس بنا پر ان کی بھی عبادت کرنا درست ہے۔ لہٰذا جو معبودان لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور ان سے کئی صفات اور اختیارات منسوب کر دیئے گئے ہیں ان کے آستانوں پر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ نذریں، نیازیں چڑھائی جاتی ہیں بعض کے طواف اور اعتکاف تک بھی کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت جاہلانہ توہمات کے سوا کچھ بھی نہیں۔
[100] یعنی اللہ تو اس لئے ان کی مدد نہیں کرے گا کہ ان ظالموں نے اللہ کے شریک بنا کر اور اللہ کو ناراض کر لیا اور ان کے معبود اس لیے مدد نہیں کر سکیں گے کہ ان میں اتنی قدرت ہی نہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے ظلم اور حماقت میں کیا شک ہو سکتا ہے۔