ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 60

ذٰلِکَ ۚ وَ مَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیۡہِ لَیَنۡصُرَنَّہُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۶۰﴾
یہ اور جو شخص اس کی مثل بدلہ لے جو اسے تکلیف دی گئی، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور ہی اس کی مدد کرے گا، یقینا اللہ ضرور نہایت درگزر کرنے والا، بے حد بخشنے والا ہے۔ En
یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اس کی مدد کرے گا۔ بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
En
بات یہی ہے، اور جس نے بدلہ لیا اسی کے برابر جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا پھر اگر اس سے زیادتی کی جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اللہ درگزر کرنے واﻻ بخشنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ یہ (تو ان لوگوں کا معاملہ ہے) اور جو شخص اتنا ہی بدلہ لے جتنی اس پر سختی ہوئی تھی۔ پھر (از سر نو) اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد [88] کرے گا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا [89] اور درگزر کرنے والا ہے۔
[88] مظلوم کی آہ سے بچنے کا حکم خواہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو:۔
پچھلی دو آیات میں ان مہاجر مسلمانوں کا ذکر تھا۔ جو کفار کے ظلم و تشدد سے مجبور ہو کر گھر بار چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے اور وہ ظلم کا بدلہ لے ہی نہ سکتے تھے۔ اب ان لوگوں کا ذکر ہے۔ جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ انھیں یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر وہ بدلہ لینا چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لیں جس قدر ان پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں گے تو یہ خود ظالم ٹھہریں گے اس صورت میں اللہ ان کی مدد کرے گا۔ جو مظلوم ہیں۔ کیونکہ اللہ ہمیشہ مظلوم کی مدد کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو جہاں اور بہت سی نصیحتیں ارشاد فرمائیں وہاں سب سے آخر میں اور بطور خاص جو نصیحت فرمائی وہ یہ تھی۔
«وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّهُ لَيْسَ بَيْنهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ» [مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب الدعاء الي الشهادتين و شرائع الاسلام]
یعنی مظلوم کی بددعا سے بچے رہنا کیونکہ مظلوم کی پکار اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ اسی مضمون کو شیخ سعدی رحمہ اللہ نے بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا ہے۔
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن اجابت از در حق بہر استقبال می آید
یعنی مظلوموں کی آہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اس آہ کی قبولیت خود اسے لینے کو آگے آتی ہے۔
[89] زیادتی کے برابر بدلہ لینے کا جواز یا رخصت:۔
اس آیت میں صرف زیادتی کے برابر بدلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے اور اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے تو اللہ اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرتا اور اسے ظلم شمار کیا جائے گا۔ اس اجازت کے باوجود اگر بدلہ نہ لیا جائے تو یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ کیونکہ وہ خود بھی معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے ذاتی اور معاشرتی معاملات میں عفو و درگزر کی عادت کو اپنائیں اور ہر وقت بدلہ لینے کے درپے نہ ہوا کریں۔