ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 6

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّہٗ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۙ﴿۶﴾
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور (اس لیے) کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (اس لیے) کہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قادر مطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور وه ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ یہ سب کچھ اس لئے (ہوتا ہے) کہ اللہ ہی حق [6] ہے، وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
[6] اللہ کے حق ہونے کے تین مطلب:۔
اس جملہ کے تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں حق کا معنی سچا ہے۔ یعنی ان دونوں مثالوں سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعث بعد الموت کو حتمی اور یقینی قرار دے رہا ہے تو اس کی بات بالکل سچی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اس کا وجود کوئی فرضی وجود نہیں جسے عقلی اشکالات کی وجہ سے تسلیم کر لیا گیا ہو جیسا کہ فلاسفروں کا خیال ہے جو علت و معلول کی کڑیاں جوڑتے جوڑتے جب عاجز آ جاتے ہیں تو ایک ہستی کو واجب الوجود یا علت العلل (First Cause) تسلیم کرنے لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ ایک زندہ جاوید ہستی ہے جو ہر چیز میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا ہے اور ہر چیز پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے اور تیسرے یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ظہور پذیر ہو رہا ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری کائنات اور اس کائنات میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کو محض تفریح طبع کے لئے پیدا نہیں کیا۔ اور ان تینوں معانی پر قرآن کی دوسری بے شمار آیات شاہد ہیں۔