ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 38

اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوۡرٍ ﴿٪۳۸﴾
بے شک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے، بے شک اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بے حد خیانت کرنے والا، بہت ناشکرا ہو۔ En
خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بےشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
En
سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے واﻻ ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے (دشمنوں کی) مدافعت کرتا ہے۔ یقیناً اللہ کسی خائن اور ناشکرے [64] کو پسند نہیں کرتا۔
[64] اللہ تعالیٰ اہل حق کا فریق اس لئے بنتا ہے کہ فریق ثانی خائن اور بد دیانت بھی ہے اور ناشکرا بھی۔ بد دیانت اور خائن اس لحاظ سے کہ اللہ نے انھیں کعبہ کی تولیت کی امانت سپرد کی تو انہوں نے اہل حق کو کعبہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی اور ناشکرے اس لحاظ سے ہیں کہ ان کو سب نعمتیں تو اللہ نے دی ہیں مگر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اپنی ساری نیاز مندیاں اور عبادتیں بتوں کے لئے وقف کر دیں۔