ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحج (22) — آیت 27

وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ﴿ۙ۲۷﴾
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔ En
اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کر دو کہ تمہاری پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہو (سوار ہو کر) چلے آئیں
En
اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ نیز یہ کہ لوگوں میں حج کا عام اعلان [35] کر دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور چھریرے [36] بدن کے اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں۔
[35] جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان عام کر دو کہ وہ حج کے لئے یہاں آئیں۔ حضرت ابراہیمؑ کہنے لگے یہاں میری آواز کون سنے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اعلان کر دو۔ آواز پہنچا دینا میرا کام ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ نے ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر پکارا: لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ لہٰذا حج کو آؤ۔ اور اللہ نے یہ آواز ہر اس شخص اور اس روح تک پہنچا دی جس کے لئے حج مقدر تھا اور اس کی روح نے اس اعلان پر لبیک کہا۔
[36] ضامر کا لغوی مفہوم:۔
یہاں ضامر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ضامر وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سدھارنے اور مشن کی کثرت اور کسرت کی وجہ سے دبلا پتلا اور چھریرے بدن والا ہو جائے اور سبک رو، یا سبک خرام ہو تاکہ مقابلہ میں آگے نکل سکے۔ اور جانور بھوک کی کمی کی وجہ سے دبلا ہو اسے عجف کہتے ہیں۔ عرب میں ضامر کا لفظ عموماً اونٹ کے لئے مختص ہو گیا خواہ وہ نر ہو یا مادہ اور اونٹ کا نام بطور خاص اس لیے لیا گیا کہ اس زمانہ میں اور اس علاقہ میں اونٹ ہی آمدورفت اور نقل و حرکت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔