24۔ (یہ وہ لوگ ہوں گے) جنہیں پاکیزہ کلمہ [29] (توحید) کو قبول کرنے کی راہ دکھلائی گئی تھی نیز انھیں ستودہ صفات اللہ تعالیٰ کی راہ کی ہدایت دی گئی تھی۔
[29] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے کہ اس آیت کو اس دنیا سے متعلق سمجھا جائے۔ اس صورت میں جو مطلب ہو گا وہ ترجمہ سے ہی واضح ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے آخرت سے متعلق سمجھا جائے جیسا کہ پہلے اہل جنت کا ذکر چل رہا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی ایسے مقام کی طرف راہنمائی کی جائے گی جہاں فرشتے انھیں سلام کہیں گے۔ مبارک باد پیش کریں گے۔ وہاں کسی قسم کی بک بک اور جھک جھک نہ ہو گی اور یہ ایسی راہ ہو گی جہاں پہنچ کر اہل جنت ستودہ صفات اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں ہی ہمیشہ مشغول رہا کریں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔