ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 95

وَ حَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور لازم ہے اس بستی پر جسے ہم ہلاک کر دیں کہ وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔
اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر ﻻزم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

95۔ اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ (ہمارے پاس) [85] لوٹ کر نہ آئیں (بلکہ انھیں آنا پڑے گا)
[85] اس آیت کے کئی مطلب بیان کئے جاتے ہیں اور وہ اپنی اپنی جگہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں۔ ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے۔ بعض مجرم بستیوں کو ہم ہلاک کرتے ہیں۔ تو یہ ان کے جرائم کا پورا بدلہ نہیں ہوتا۔ انھیں قیامت کو یقیناً ہمارے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس وقت ہم انھیں ان کے جرائم کی سزا دیں گے اور یہ نا ممکن ہے کہ وہ ہمارے پاس نہ آئیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف اسی بستی کو ہلاک کرتے ہیں۔ جن کے متعلق ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے برے اعمال سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ ہلاک شدہ بستیوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ہم انھیں دوبارہ زندہ کر کے واپس دنیا میں بھیج دیں۔ تاکہ وہ اب اچھے اعمال بجا لا سکیں اور تلافی مافات کر سکیں۔