92۔ یہ (انبیاء کی جماعت) ہی تمہاری امت ہے جو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری ہی [83] عبادت کرو۔
[83] سب انبیاء کی مشترکہ تعلیم کیا تھی؟
اس مقام پر امت کا لفظ دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ نیز اس آیت میں تمام بنی نوع انسان یکساں مخاطب ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے دین کے اصول ہمیشہ ایک ہی رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہر چیز کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا وہی عبادت کا مستحق ہے۔ اور اسی کو توحید کہتے ہیں۔ پھر اسی توحید کا لازمی نتیجہ یہ بھی تھا کہ اس توحید کو ماننے والوں اور صرف اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیا جائے اور اس کے خلاف کرنے والوں یعنی مشرکوں کو سخت سزا دی جائے۔ گویا روز آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھنا بھی اسی عقیدہ توحید کے تسلیم کرنے کا تقاضا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ اور روزہ وغیرہ عبادت ہی کی اہم شکلیں ہیں۔ اور اللہ کی عبادت توقع اور خوف کے ساتھ کرنا چاہئے۔ اولاد اور رزق وغیرہ اللہ ہی سے طلب کرنا چاہئے۔ اور مشکل کے وقت صرف اللہ ہی کو پکارنا چاہئے، اسی سے فریاد کرنا چاہئے۔ انبیاء خود بھی کوئی با اختیار ہستیاں نہیں ہوتیں۔ بلکہ وہ بھی ہر معاملہ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ یہ اصول دین سب انبیاء میں مشترک رہے ہیں۔ رہیں جزئیات تو ان جزئیات میں اس دور کے تقاضا کے مطابق اختلاف بھی واقع ہوتا رہا ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔