ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 88

فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۙ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡغَمِّ ؕ وَ کَذٰلِکَ نُــۨۡجِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ تب ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انھیں اس غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان رکھنے والوں کو نجات [78] دیا کرتے ہیں۔
[78] یعنی اللہ تعالیٰ کو عاجزی سے پکارنے پر اللہ تعالیٰ کا سابقہ خطاؤں کو معاف کر کے مزید انعامات سے نوازنا حضرت یونسؑ سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار لوگ ہمیں اسی طرح پکاریں گے ہم انھیں مصائب سے نجات دیں گے۔ حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا کرتے رہے: ﴿لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ احادیث میں اس دعا کی بہت فضیلت آئی ہے اور امت نے شدائد و مصائب میں اس دعاء کو بہت مجرب پایا ہے۔