ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 85

وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِدۡرِیۡسَ وَ ذَاالۡکِفۡلِ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۵﴾
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو۔ ہر ایک صبر کرنے والوں سے تھا۔
اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل، (علیہم السلام) یہ سب صابر لوگ تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

85۔ اور اسمٰعیل، ادریس اور ذو الکفل [76] کو بھی نعمت دی تھی اور یہ سب بڑے صابر تھے۔
[76] ذو الکفل کون تھے؟
ذو الکفل کے حالات بھی کتاب و سنت میں کم ہی مذکور ہوئے ہیں۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے۔ یعنی آپ نبی تھے یا نہیں۔ مگر چونکہ آپ کا ذکر انبیاء کے ہی درمیان آیا ہے۔ اس لیے گمان غالب یہی ہے کہ آپ نبی تھے۔ آپ الیسع کے خلیفہ تھے۔ آپ کا لقب ذو الکفل (بمعنی صاحب نصیب) اور نام بشیر بن ایوب ہے۔ شام کا علاقہ ہی آپ کی دعوت کا مرکز ہے۔ عمالقہ شاہ وقت بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ آپ نے اس سے بنی اسرائیل کو آزاد کرایا۔ پھر وہ بادشاہ بھی مسلمان ہو گیا اور حکومت آپ کے سپرد کی۔ جس کے نتیجہ میں شام کے علاقہ میں ایک دفعہ پھر خوب اسلام پھیلا۔