ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 83

وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۳﴾
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک میں، مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا: ”مجھے بیماری لگ گئی [73] ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے“
[73] سیدنا ایوب کس دور میں مبعوث ہوئے؟ یا کس علاقہ میں مبعوث ہوئے؟ آپ نے تبلیغ کا فریضہ کتنا عرصہ سرانجام دیا؟ اور آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تفصیل کتاب و سنت میں مذکور نہیں۔ قیاس سے آپ کے دور نبوت کی جو تعیین کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ حضرت یوسفؑ اور حضرت شعیبؑ کے درمیانی زمانہ میں یعنی تقریباً ڈیڑھ ہزار قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔
سیدنا ایوب کی بیماری اور صبر:۔
کتاب و سنت نے حضرت ایوبؑ کی جس خصوصیت سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔ وہ آپ کا صبر ہے۔ آپ کا ابتدائی زمانہ نہایت خوشحالی کا دور تھا۔
مال کی سب اقسام:
اولاد، بیویاں، جائیداد غرضیکہ سب کچھ وافر مقدار میں عطا ہوا تھا اور آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ اس دور میں آپ ہمیشہ اللہ کا شکر بجا لاتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسری طرح آزمانا چاہا اور آپ پر ابتلا کا دور جو آیا کہ ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور اپنا یہ حال تھا کہ کسی طویل بیماری میں مبتلا ہو گئے اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بلکہ لوگوں نے اپنی بستی سے باہر نکال دیا۔ اس ابتلاء کے طویل دور میں آپ نے صبر استقامت کا ایسا بے مثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کے ابتلاء کا دور 12 سال ہے۔ پھر جب اللہ سے اپنی بیماری کے لئے دعا کی تو اس دعا میں شکوہ و شکایت نام کو نہیں۔ بلکہ عرض مدعا نہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انتہائی صابر، قانع اور خوددار آدمی اپنے مالک کو کوئی بات یاد کرا رہا ہو۔ کہا تو صرف اتنا کہا کہ پروردگار! میں طویل مدت سے بیمار ہوں اور تو «ارحم الراحمين» ہے۔