ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ وَ یَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ کُنَّا لَہُمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
اور کئی شیطان جو اس کے لیے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے۔
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
اسی طرح سے بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے تابع کیے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے، ان کے نگہبان ہم ہی تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ شیطانوں کو بھی اس کے تابع بنا دیا تھا جو اس کے لئے (سمندر میں موتی، جواہرات نکالنے کے لئے) غوطہ لگاتے [71] اور اس کے علاوہ اور بھی کئی کام کرتے تھے اور ہم ہی ان سب کے محافظ [72] تھے۔
[71] جن سے مراد دیہاتی لوگ جنوں پر حکومت:۔
جو حضرات معجزات کی تاویل کرنے کے عادی ہیں اور جب تک وہ انھیں طبعی امور کے تابع نہ بنا لیں انھیں چین نہیں آتا۔ وہ اس آیت میں شیطانوں سے مراد دیہاتی طاقتور انسان لیتے ہیں۔ حالانکہ دیہاتی طاقتور لوگ بھی انسان ہی ہوتے ہیں ان کے دیہاتی یا طاقتور ہونے سے ان کی نوع نہیں بدل جاتی۔ دنیا میں جتنی بھی فلک بوس عمارتیں ہیں یا بھاری کام ہوتے ہیں۔ یہ سب کام دیہاتی طاقتور ہی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ شہری نازنینوں کا کام نہیں ہوتا۔ اور دیہاتی طاقتور ہر بادشاہ بلکہ ہر سرمایہ دار کو آسانی سے میسر آسکتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمانؑ کی کیا خصوصیت رہی جن کے خادمین میں اللہ نے بطور خاص جنوں کا نام لیا ہے۔
[72] یعنی ہم نے ان شیطانوں کو سلیمانؑ کے تابع فرمان بنا رکھا تھا۔ وہ نہ ان کی حکم عدولی کر سکتے تھے اور نہ ان کے ہاں سے بھاگ سکتے تھے اور یہ سلیمانؑ کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا۔ بلکہ شیطان ان کے تابع فرمان رہنے پر اس لئے مجبور تھے کہ ہم خود ان کے محافظ تھے۔