56۔ اس نے جواب دیا: ”دل لگی نہیں بلکہ سچی بات یہی ہے کہ تمہارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے جس نے انھیں پیدا کیا [50] اور میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔
[50] حضرت ابراہیمؑ نے جواب دیا کہ یہ دل لگی کی بات نہیں بلکہ میں فی الواقع یہی کچھ سمجھتا ہوں کہ یہ پتھر کے بت جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں وہ تمہارے نفع و نقصان کے مالک کیسے بن سکتے ہیں۔ اور میں تو اپنے نفع و نقصان کا مالک صرف اپنے اس پروردگار کو سمجھتا ہوں جس نے ہم سب کو بھی اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور ان پر پورے اختیار کے ساتھ حکمرانی کر رہا ہے اور میں یہ بات محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔