ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 55

قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِیۡنَ ﴿۵۵﴾
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے؟
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟
کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق ﻻئے ہیں یا یوں ہی مذاق کر رہے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ وہ کہنے لگے: ”کیا تو ہمارے پاس کوئی سچی بات [49] لایا ہے یا ویسے ہی دل لگی کر رہا ہے“
[49] گویا قوم ابراہیم کو اپنے اس بت پرستی کے مذہب کی حقانیت پر اتنا پختہ یقین تھا کہ یہ بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتی تھی کہ کوئی شخص اس مذہب کی مخالفت بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا وہ حضرت ابراہیمؑ سے پوچھنے لگے کہ تم نے جو ہم پر بتوں کی پرستش کی بنا پر صریح گمراہی کا فتویٰ لگایا ہے۔ یہ بات صدق دل اور سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہے ہو یا ویسے ہی کچھ دل لگی کرنے کا خیال آگیا تھا؟