ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 42

قُلۡ مَنۡ یَّکۡلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ؕ بَلۡ ہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۴۲﴾
کہہ کون ہے جو رات اور دن میں رحمان سے تمھاری حفاظت کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں
ان سے پوچھئے کہ رحمٰن سے، دن اور رات تمہاری حفاﻇت کون کر سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے پھرے ہوئے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ آپ ان سے پوچھئے: کون ہے جو رات اور دن میں رحمن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت [38] کرتا ہے؟ بلکہ یہ لوگ تو اپنے پروردگار کے ذکر تک سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
[38] یعنی ان کافروں کی کرتوتیں تو اس لائق ہیں کہ انھیں کسی وقت بھی رات کو یا دن کو اللہ کا عذاب آلے۔ یہ تو اللہ کی رحمت واسعہ اور اس کی خاص مہربانی ہے کہ لوگوں کی خطاؤں پر فوری گرفت نہیں کرتا۔ اور اگر اس کا عذاب آ جائے تو ان کے پاس وہ کون سا ذریعہ ہے جس سے وہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے؟ یا وہ کون سی ہستی ہے جو اللہ کے علاوہ انھیں عذاب سے بچا سکتی ہے۔ در اصل یہ اللہ کے قانون تدریج و امہال کا، جو لوگوں کے لئے سراسر رحمت ہے، مذاق اڑا رہے ہیں۔ حالانکہ انھیں چاہئے یہ تھا کہ ایسے مالک کے احسان مند ہوتے جو ان کی خطاؤں کے باوجود مہلت دیئے جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ اس کا ذکر تک سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔