ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 4

قٰلَ رَبِّیۡ یَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۫ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۴﴾
اس نے کہا میرا رب آسمان و زمین میں ہر بات کو جانتا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
En
پیغمبر نے کہا میرا پروردگار ہر اس بات کو جو زمین وآسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے، وه بہت ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ رسول نے کہا کہ: آسمان اور زمین میں [5] جو بات بھی ہو رہی ہو میرا پروردگار اسے خوب جانتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
[5] ایسی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کے درمیان جو خفیہ مجلس منعقد ہوتی اور سازشیں تیار ہوتی تھیں۔ وہ طشت از بام تو ہو ہی جاتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب باتوں کے جواب میں صرف اتنا ہی کہا کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی راز داری سے کی جائے، میرا پروردگار اس سے پوری طرف واقف ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری ان ساری سرگرمیوں کے باوجود اللہ اپنے دین کی دعوت کے کام کو آتے بڑھاتا رہے گا اور تمہاری کوئی تجویز کارگر نہ ہونے پائے گی۔