ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 13

لَا تَرۡکُضُوۡا وَ ارۡجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِیۡہِ وَ مَسٰکِنِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۳﴾
بھاگو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آئو جن میں تمھیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف، تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ En
مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے
En
بھاگ دوڑ نہ کرو اور جہاں تمہیں آسودگی دی گئی تھی وہیں واپس لوٹو اور اپنے مکانات کی طرف جاؤ تاکہ تم سے سوال تو کر لیا جائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ (ہم نے کہا) بھاگو نہیں بلکہ اپنے مکانوں اور اس عیش و عشرت کے سامان کی طرف لوٹ آؤ جس سے تم مزے اڑا رہے تھے شاید تم سے (حقیقت حال کے متعلق) سوال [12] کیا جائے۔
[12] یعنی اب اپنی مجالس کی مسندوں پر کیوں براجمان نہیں ہوتے۔ تاکہ لوگ آپ کے سامنے اپنی درخواستیں پیش کریں۔ اپنے مسائل حل کروائیں۔ آپ سے مشورے کریں۔ آپ کی رائے پوچھیں۔ اب کہاں جاتے ہو یہیں بیٹھو اور کچھ نہیں تو کم از کم بعد میں آنے والوں کو یہی بتلا دینا کہ تم پر عذاب الٰہی کیسے آیا تھا؟ اور کس کس قسم کے حالات پیش آئے تھے۔