ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 112

قٰلَ رَبِّ احۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪
اس نے کہا اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب ہی وہ بے حد مہربان ہے جس سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے
خود نبی نے کہا اے رب! انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

112۔ (آخر کار) پیغمبر نے کہا: ”اے میرے پروردگار! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ اور لوگو! جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس کے مقابلہ میں ہمارا پروردگار رحمن ہی ہے جس سے مدد [99] طلب کی جا سکتی ہے“
[99] انبیاء کی اپنی قوم سے مایوسی پر دعا:۔
اکثر انبیاء جب اپنی زندگی بھر اللہ کی طرف دعوت دینے کے بعد کافروں کی طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے ایسی ہی یا ان الفاظ سے ملے جلے الفاظ میں دعا کی کہ یا اللہ! اب تو ہی ان کافروں کے اور ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔ چنانچہ اس رسول (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بھی کافروں کو مخاطب کر کے فرمایا: کہ جس طرح تم اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے رہے ہو اور مسلمانوں کو اپنی تضحیک اور ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے ہو تو اس کے رد عمل کے طور پر ہم اپنے پروردگار کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں جو نہایت مہربان ہے اور ایسے مشکل اوقات میں اسی سے مدد طلب کرنا چاہئے۔