ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 109

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ اٰذَنۡتُکُمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ وَ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں اس طرح خبردار کر دیا ہے کہ (ہم تم) برابر ہیں اور میں نہیں جانتا آیا قریب ہے یا دور، جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔
اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے
پھر اگر یہ منھ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کر دیا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جا رہا ہے وه قریب ہے یا دور

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

109۔ پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو ان سے کہئے کہ: ”میں نے تم سب کو علی الاعلان [97] خبردار کر دیا ہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ نزدیک ہے یا دور۔
[97] ﴿اِذْانْتُمْ عَليٰ سَوَاءٍ کا معنی یہ کہ میں نے تم کو برابری کی سطح پر خبردار کر دیا ہے۔ یعنی تمہیں دو باتوں میں سے کسی بھی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے میری دعوت کو قبول کر لو اور چاہے تو انکار کر دو۔ انکار کی صورت میں تم پر عذاب آئے گا ضرور، لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ عذاب کب آئے گا؟ جلد آئے گا یا دیر سے آئے گا کیونکہ عالم الغیب نہیں ہوں۔