ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 103

لَا یَحۡزُنُہُمُ الۡفَزَعُ الۡاَکۡبَرُ وَ تَتَلَقّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوۡمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور انھیں (آگے سے) لینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ یہ ہے تمھارا وہ دن جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔
ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
وه بڑی گھبراہٹ (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وه دن ہے جس کا تم وعده دیئے جاتے رہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

103۔ یہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت انھیں غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے آگے بڑھ کر ان سے ملیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن [91] ہے جس کا تم سے وعدہ کیا تھا۔
[91] قیامت کے دن گھبراہٹوں سے وہ قطعاً پریشان حال نہ ہوں گے بلکہ انھیں مکمل اطمینان میسر ہو گا۔ اس لئے یہ سب کچھ ان کے عقائد اور ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہو گا۔ فرشتے آکر انھیں سلام کریں گے اور جنت میں داخل کرنے کے لئے خود ان کے استقبال کو آئیں گے اور کہیں گے کہ جس دائمی راحت و مسرت کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا رہا۔ آج اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔