ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 1

اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مُّعۡرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔ En
لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں
En
لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ لوگوں کے حساب کا وقت قریب [1] آپہنچا ہے جبکہ وہ ابھی تک غفلت میں منہ موڑے [2] ہوئے ہیں۔
[1] آپ کا آخری نبی ہونا قرب قیامت ہے:۔
یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آخر الزمان کی بعثت ہی اس بات کی علامت ہے کہ زمین میں بنی آدم کی آبادی کا آخری دور ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”میں اور قیامت ایسے ہی جیسے یہ دو انگلیاں“ [بخاری: کتاب الرقاق، باب قول النبی بعثت انا والساعہ کھاتین]
اس حدیث کے بھی دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ جتنی لمبائی شہادت کی انگلی کی ہے۔ یہ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کا زمانہ ہے اور جتنی وسطی انگلی شہادت کی انگلی سے بڑی ہے یہ مجھ سے لے کر قیامت تک کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے تقریباً پانچ حصے عرصہ گزر چکا ہے اور ایک حصہ باقی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ اسی طرح میرے بعد تا قیامت کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ یہ بات بھی قریب قیامت کی علامت ہوئی۔ نیز اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی موت کا وقت قریب ہے اور موت کے ساتھ ہی ان کا حساب اور جزاء و سزا کام سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ حساب اور جزاء و سزا کا سلسلہ قیامت کی نسبت بہت ہلکے پیمانہ پر ہو گا اور اس مطلب پر دلیل آپ کا یہ ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص مر گیا، اس کی قیامت قائم ہو گئی۔ [مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن۔ باب فی قرب الساعۃ]
[2] یعنی پیغمبر تو انہیں ان کے برے انجام کی خبر دے رہا ہے لیکن وہ کچھ ایسے بد مست ہوئے ہیں کہ ایسی بات سننا بھی نہیں چاہتے۔