1۔ لوگوں کے حساب کا وقت قریب [1] آپہنچا ہے جبکہ وہ ابھی تک غفلت میں منہ موڑے [2] ہوئے ہیں۔
[1] آپ کا آخری نبی ہونا قرب قیامت ہے:۔
یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آخر الزمان کی بعثت ہی اس بات کی علامت ہے کہ زمین میں بنی آدم کی آبادی کا آخری دور ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”میں اور قیامت ایسے ہی جیسے یہ دو انگلیاں“ [بخاری: کتاب الرقاق، باب قول النبی بعثت انا والساعہ کھاتین] اس حدیث کے بھی دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ جتنی لمبائی شہادت کی انگلی کی ہے۔ یہ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کا زمانہ ہے اور جتنی وسطی انگلی شہادت کی انگلی سے بڑی ہے یہ مجھ سے لے کر قیامت تک کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے تقریباً پانچ حصے عرصہ گزر چکا ہے اور ایک حصہ باقی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ اسی طرح میرے بعد تا قیامت کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ یہ بات بھی قریب قیامت کی علامت ہوئی۔ نیز اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی موت کا وقت قریب ہے اور موت کے ساتھ ہی ان کا حساب اور جزاء و سزا کام سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ حساب اور جزاء و سزا کا سلسلہ قیامت کی نسبت بہت ہلکے پیمانہ پر ہو گا اور اس مطلب پر دلیل آپ کا یہ ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص مر گیا، اس کی قیامت قائم ہو گئی۔ [مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن۔ باب فی قرب الساعۃ] [2] یعنی پیغمبر تو انہیں ان کے برے انجام کی خبر دے رہا ہے لیکن وہ کچھ ایسے بد مست ہوئے ہیں کہ ایسی بات سننا بھی نہیں چاہتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔