ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 88

فَاَخۡرَجَ لَہُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ فَقَالُوۡا ہٰذَاۤ اِلٰـہُکُمۡ وَ اِلٰہُ مُوۡسٰی ۬ فَنَسِیَ ﴿ؕ۸۸﴾
پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا، جو محض جسم تھا، اس کے لیے گائے کی آواز تھی، تو انھوں نے کہا یہی تمھارا معبود اور موسیٰ کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا۔ En
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
En
پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ پھر وہ اس (ڈھلے ہوئے سونے سے) ایک بچھڑے کا جسم بنا لایا جس سے بیل کی سی [61] آواز نکلتی تھی وہ لوگ کہنے لگے تمہارا اور موسیٰ کا الٰہ تو یہی ہے، موسیٰ تو بھول گیا (جو طور پر چلا گیا)
[61] قوم کا گؤ سالہ پرستی پر عذر لنگ:۔
قوم نے موسیٰؑ کو ان کے سوالوں کا یہ جواب دیا کہ ہم نے عمداً کچھ ایسا قصد نہیں کیا تھا بلکہ ہوا یہ تھا کہ اس طویل سفر میں زیورات کا بوجھ ہمارے لئے ناقابل برداشت بن گیا تھا لہٰذا ہم چاہتے تھے کہ اس کے کہ ہمارے سب افراد یہ بوجھ اٹھائے رکھیں انھیں کیوں نہ اکٹھا کر کے پگھلا کر اس کی اینٹیں بنا لی جائیں تاکہ اس کی نقل و حرکت میں آسانی ہو جائے اور دوسرے سامان کے ساتھ گدھوں اور بیلوں پر لادا جا سکے۔ اور اس میں ہر ایک کے زیور کی مقدار الگ الگ لکھ لی جائے اور جب کہیں مقیم ہوں گے تو اپنے اپنے حصہ کا سونا پھر سے بانٹ کر زیور بنو ائے جا سکتے ہیں۔ اس خیال سے ہم لوگوں نے بھی اپنے اپنے زیور اتار پھینکے اور اسی طرح سامری نے اپنا زیور اس مجموعہ میں شامل کر دیا۔ سونے کو پگھلانے کا کام سامری کے ذمہ تھا۔ اس نے یہ شرارت کی کہ بجائے اس کے کہ زیورات کو پگھلا کر سونے کی اینٹیں بناتا، اس کو بچھڑے کی شکل دے دی۔ پھر کچھ ایسا کرتب دکھایا کہ اس بچھڑے سے بچھڑے کی سی آواز بھی نکلتی تھی اور کہنے لگا کہ حقیقتاً تو یہی تمہارا الٰہ ہے۔ جو سونا پگھلانے پر آپ سے آپ اس شکل میں نمودار ہو گیا ہے۔ یہ لوگ مصر میں چونکہ بڑی مدت فرعونیوں کی دیکھا دیکھی بیل کی پرستش کرتے رہے تھے اور ابھی تک ان کے ذہن میں پوری طرح صاف نہیں ہوئے تھے لہٰذا جاہل عوام نے فوراً سامری کی آواز پر لبیک کہی اور کہنے لگے کہ اصل میں ہمارا اور موسیٰ کا بھی الٰہ تو یہ تھا۔ موسیٰ پتا نہیں طور پر کیا لینے گیا ہے؟ چنانچہ یہ معاملہ ہمارے اختیار سے باہر ہو گیا اور اکثریت کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی یہی راہ اختیار کرنا پڑی۔