ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 84

قَالَ ہُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیۡ وَ عَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی ﴿۸۴﴾
کہا وہ یہ میرے نشان قدم پر ہیں اور میں تیری طرف جلدی آگیا اے میرے رب! تاکہ تو خوش ہو جائے۔ En
کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو
En
کہا کہ وه لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ موسیٰ نے عرض کیا: ”وہ لوگ بھی میرے پیچھے آہی رہے ہیں اور میں نے تیرے حضور آنے میں اس لئے جلدی کی تاکہ تو مجھ سے [58] خوش ہو جاؤ“
[58] سیدنا موسیٰؑ کا اپنے ہمراہیوں سے پہلے طور پر پہنچ جانا:۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے وعدہ فرمایا تھا کہ کوہ طور کے دامن میں پہنچ کر چالیس راتیں وہاں بسر کرنا تو تمہیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے کتاب تورات عطا کی جائے گی۔ چنانچہ موسیٰؑ نے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمی اپنے ہمراہ لئے اور طور کی جانب روانہ ہو گئے۔ لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور ہم کلامی کا کچھ اتنا زیادہ اشتیاق تھا کہ آپ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر سب سے پہلے منزل مقصود جا پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ ”تمہیں اتنی کیا جلدی تھی کہ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر پہلے ہی یہاں آپہنچے؟“ عرض کیا وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے یہاں پہنچ ہی رہے ہیں اور مجھے تیری ملاقات کا اشتیاق ان سے پہلے یہاں کھینچ لایا ہے۔ پھر اسی موقع پر آپ نے اپنے پروردگار سے درخواست کی تھی کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنا آپ دکھلا دے اور یہ واقعہ بھی سورۃ بقرہ میں پوری تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔