ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 81

کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ لَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبِیۡ ۚ وَ مَنۡ یَّحۡلِلۡ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدۡ ہَوٰی ﴿۸۱﴾
کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں دی ہیں اور ان میں حد سے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب اترے گا اور جس پر میرا غضب اترا تو یقینا وہ ہلاک ہوگیا۔ En
(اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ۔ اور اس میں حد سے نہ نکلنا۔ ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا۔ اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا
En
تم ہماری دی ہوئی پاکیزه روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ (اور کہا کہ) ہم نے جو پاکیزہ چیزوں کا تمہیں رزق دیا ہے اس سے کھاؤ اور کھا کر سرکشی [57] نہ کرو۔ ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترا وہ گر کر ہی رہا۔
[57] میدان تیہہ میں بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات:۔
یہاں پھر کئی تفصیلات کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے، جو دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مثلاً اسی سفر میں بنی اسرائیل نے ایک مندر میں بعض لوگوں کو بت پوجتے دیکھا تو کہنے لگے۔ موسیٰ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک الٰہ یعنی محسوس خدا کا مجسمہ بنا دو۔ جس پر موسیٰؑ نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ پھر جب موسیٰؑ نے انھیں پھر ہجرت کا مقصد بتلایا کہ تمہیں اپنے آبائی وطن کو غیروں کے قبضہ سے آزاد کرانا اور خود وہاں آباد ہونا ہے تو کہنے لگے! موسیٰ! وہاں تو بڑے طاقتور اور جنگجو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہم ان سے جنگ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہو سکتے ہیں یا پھر تم اور تمہارا رب جا کر ان سے جنگ کرو۔ ہم میں اتنی ہمت نہیں۔ ان کی اس بزدلانہ حرکت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں سزا کے طور پر یہ حکم دیا کہ اب تم یہیں اسی میدان میں چالیس سال تک بھٹکتے پھرو۔ جس سے مقصد ان کی بزدلی کا علاج اور ان میں جرأت پیدا کرتا تھا۔ ایک تو جنگل کی زندگی ویسے ہی دلیر بنا دیتی ہے۔ دوسرے بڑے بوڑھے سب بزدل اتنے عرصہ میں مر کھپ جائیں گے اور جو نئی نسل پیدا ہو گی وہ غلامی کے بجائے آزادانہ فضا میں پرورش پائے گی وہ جرأت مند پیدا ہو گی۔ اس بیابان میں نہ رہنے کو مکان تھے اور نہ کوئی چیز کھانے کو ملتی یا پیدا ہوتی تھی نہ کہیں پانی کے چشمے یا گھاٹ تھے پھر یہ بنی اسرائیل بھی لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل تھے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کے ان مسائل کا حل ایسے معجزانہ انداز میں فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دھوپ کے وقت بادل سائبان کی طرح ان پر چھا جاتے مگر برستے نہیں تھے۔ اور رات کو غائب ہو جاتے۔ اسی میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کے کھانے کو من و سلویٰ نازل فرمایا اور پانی کے بارہ چشمے جاری کر دیئے۔ ان واقعات کی تفصیل سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ سب نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ نے انھیں حکم دیا کہ اب نہ زیادتی کرنا اور نہ سرکشی۔ زیادتی یہ تھی کہ ذخیرہ اندوزی کر کے دوسرے لوگوں کو ان کے حق سے محروم نہ بنا دینا اور سرکشی نہ کرنے کا مطلب یہ تھا۔ کہ اللہ کی ان نعمتوں کے ملنے پر اس کا شکر ادا کرتے رہنا اور اس کے عبادت گزار اور فرمانبردار بندے بن کر رہنا اور اگر اب بھی تم نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو یاد رکھو کہ پھر تم پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا جو تمہیں تباہ و برباد کر دے گا۔