ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 65

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰی ﴿۶۵﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو یہ کہ تو پھینکے اور یا یہ کہ ہم پہلے ہوں جو پھینکے۔ En
بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالتے ہیں
En
کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ پھر موسیٰ سے کہنے لگے: ”موسیٰ تم ڈالتے ہو یا پہلے ہم ڈالیں؟ [46]
[46] مقابلہ میں جادوگروں کی پہل:۔
اس اتحاد کے بعد جادو گر میدان مقابلہ میں آگئے اور موسیٰؑ سے کہنے لگے: ”پہلے تو اپنا شعبدہ دکھاؤ گے یا ہم پہل کریں؟“ انہوں نے موسیٰؑ سے یہ استفسار از راہ تکریم کیا تھا جیسا کہ مقابلہ میں اکثر یہ دستور چلتا ہے۔ اس کا جواب موسیٰؑ نے یہ دیا کہ پہلے تم ہی اپنے شعبدے دکھلاؤ۔ ان کا یہ جواب از راہ تکریم نہیں تھا۔ کیونکہ جادوگر کوئی قابل عزت شے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس لئے تھا کہ حق نتھر کر سامنے آجائے۔ باطل اپنا جتنا زور لگا سکتا ہے۔ لگا لے پھر اگر اس کے بعد حق اس پر غالب آگیا تو سب لوگ حقیقت کو جان لیں گے۔