ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 61

قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَیۡلَکُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسۡحِتَکُمۡ بِعَذَابٍ ۚ وَ قَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی ﴿۶۱﴾
موسیٰ نے ان سے کہا تمھاری بربادی ہو! اللہ پر کوئی جھوٹ نہ باندھنا، ورنہ وہ تمھیں عذاب سے ہلاک کردے گا اور یقینا ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔ En
موسیٰ نے ان (جادوگروں) سے کہا کہ ہائے تمہاری کمبختی۔ خدا پر جھوٹ افتراء نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب سے فنا کردے گا اور جس نے افتراء کیا وہ نامراد رہا
En
موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا تمہاری شامت آچکی، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا نہ باندھو کہ وه تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے، یاد رکھو وه کبھی کامیاب نہ ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اس وقت موسیٰ نے لوگوں سے کہا: ”تم پر افسوس! اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں نہ لگاؤ ورنہ وہ عذاب سے تمہیں غارت کر دے گا۔ کیونکہ جس نے بھی جھوٹ [43] گھڑا، ناکام ہی رہا۔
[43] مقابلہ سے پہلے فرعون کو موسیٰؑ کی تنبیہ:۔
موسیٰؑ نے اکابرین قوم فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار پھر تنبیہ کی اور فرمایا: شامت کے مارو! اب بھی سمجھ جاؤ اور معجزہ کو جادو نہ بتلاؤ۔ جب تم حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہو تو دوسروں کی آنکھوں میں دھول نہ ڈالو۔ اور جو شخص حق کو سمجھ لینے کے بعد اس کا انکار کرے گا اللہ اسے اپنے عذاب سے دوچار کر دے گا۔ تمہارا جھوٹا پروپیگنڈا جھوٹ ہی ثابت ہو گا اور جھوٹ کبھی تا دیر چل نہیں سکتا۔