ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 59

قَالَ مَوۡعِدُکُمۡ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ وَ اَنۡ یُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًی ﴿۵۹﴾
کہا تمھارے وعدے کا وقت زینت کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں۔ En
موسیٰ نے کہا آپ کے لئے (مقابلے کا) دن نو روز (مقرر کیا جاتا ہے) اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکھٹے ہوجائیں
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعده ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ موسیٰ نے جواب دیا: ”اچھا یہ وعدہ [41] عہد کا دن) ہے اور لوگ چاشت کے وقت جمع ہوں“
[41] جادوگروں کا مقابلہ اور موسیٰؑ کی دو شرطیں:۔
فرعون کا یہ چیلنج در اصل موسیٰؑ کے دل کی آواز تھی۔ مگر ایسا کھلے میدان میں مقابلہ کرانا ان کے وسائل سے خارج تھا۔ فرعون نے چیلنج کیا تو آپ نے اسے غنیمت سمجھتے ہوئے فوراً قبول کر لیا۔ اور ساتھ دو باتیں یا شرائط اور بھی کہہ ڈالیں۔ ایک تو یہ مقابلہ صرف کھلے میدان میں ہی نہیں بلکہ جشن سالانہ کے دن ہونا چاہئے۔ جبکہ لوگ ہر طرف سے کھنچ کر دار السلطنت میں میلہ دیکھنے آتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مقابلہ کو دیکھ سکیں۔ اور دوسرے یہ کہ یہ مقابلہ دن کی صاف روشنی میں چاشت کے وقت ہونا چاہئیے تاکہ لوگوں کو اس منظر مقابلہ کے دیکھنے اور اس سے نتیجہ اخذ کرنے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔