ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 55

مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾
اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔ En
اسی (زمین) سے ہم تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے
En
اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ [37] نکالیں گے۔
[37] انسان کا زمین سے دائمی تعلق:۔
اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی تین کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان تینوں کا تعلق زمین سے ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین یا مٹی سے پیدا کیا اور اس کی تمام تر ضروریات اسی سے متعلق کر دیں۔ پیدائش سے لے کر موت تک یہ ایک مرحلہ ہوا۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک ہے۔ اس مرحلے میں انسان اسی زمین میں دفن ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کی میت مٹی بن کر مٹی ہی میں رل مل جاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی سب لوگوں کو مٹی کھا جاتی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے جسم کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور بعض دوسرے لوگ بھی ایسے ہو سکتے ہیں جن کے اجسام ان کی قبروں میں محفوظ ہوں۔ اور تیسرا مرحلہ بعث بعد الموت ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس مٹی میں ملے ہوئے ذرات کو جمع کر کے سب لوگوں کو زندہ کر کے اپنے حضور حاضر کرے گا۔ گویا پہلے دو مراحل تیسرے مرحلہ کے لئے دلیل کا کام دیتے ہیں۔